ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مہاراشٹر:ضابطہ اخلاق کو لے کر الیکشن کمیشن کی سختی پر وزیراعلیٰ کی ناراضگی

مہاراشٹر:ضابطہ اخلاق کو لے کر الیکشن کمیشن کی سختی پر وزیراعلیٰ کی ناراضگی

Wed, 19 Oct 2016 12:08:14    S.O. News Service

ممبئی18؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍ آئی این ایس انڈیا)مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس کے ٹویٹس پر ریاستی الیکشن کمیشن کے حکم کے لاگو ہونے پر مہاراشٹر میں الیکشن کمیشن اوروزیراعلیٰ آمنے سامنے آ گئے ہیں۔مہاراشٹر میں سٹی کونسل اور شہر پنچایت انتخابات کا اعلان ہوگیا ہے۔اسے لے کر ضابطہ اخلاق پیر سے لاگو ہوگیا۔مہاراشٹر کابینہ میں اس فیصلے کی مخالفت کی گئی۔مہاراشٹر میں 212سٹی کونسل اور شہر پنچایتوں کے انتخابات ہونے ہیں۔ریاست کے زیادہ تر علاقوں میں ضابطہ اخلاق نافذ کیا گیا ہے۔مہاراشٹر کے چیف الیکشن کمشنر جے ایس سہاریا نے پیر کو بتایا کہ انتخابات کی ضابطہ اخلاق فوری اثر سے ریاست میں لاگوہوچکاہے۔ایسے میں کسی کو بھی ووٹر کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔الیکشن کمشنر نے آگے جاکر یہ بھی واضح کر دیا کہ، سوشل میڈیا پر ہونے والے پروپیگنڈے پر ان کی کڑی نظر ہوگی. اور سرکاری اشتہارات اور وزیراعلیٰ کی ٹویٹس اس کے دائرے میں ہوں گے. اس کے علاوہ، ضابطہ اخلاق نافذ ہوئے علاقے میں سرکاری پیسے سے کام نہیں کئے جا سکیں گے۔منگل کو مہاراشٹر کابینہ کی میٹنگ میں الیکشن کمیشن کی سختی پر ناراضگی ظاہر کی گئی۔ساتھ ہی طے کیا گیا کہ الیکشن کمیشن کو ایک خط لکھ کر اپنی مخالفت درج کرائی جائے گی ۔وزیراعلیٰ فڑنویس نے کابینہ اجلاس کے بعد اس کی اطلاع میڈیا کو دی۔مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ کا ایک سرکاری ٹوئٹر کے ہینڈل ہے جبکہ دوسرا انفرادی۔ان ہیڈلو ں پر سرکاری منصوبوں کے افتتاح سے لے کر کئی دیگر اطلاعات ٹویٹس کئے جاتے ہیں۔ان میں سے سرکاری اخراجات سے ہونے والے ٹویٹ پر اب کمیشن کی نظرہوگی۔اسی کے ساتھ فڑنویس حکومت کے دو سال پورے ہونے پر جاری اضافہ مہم پر بھی الیکشن کمیشن کی نظر ہوگی۔
 


Share: